Door Ke Dhol Suhanay Urdu Kahani

دُور کے ڈھول سہانے

علی، بابا اختر کا بیٹا تھا، جو گاؤں میں رہتے تھے۔ دونوں باپ بیٹے صبح سویرے کھیتوں میں جاتے، فصل اُگاتے اور ان کی دیکھ بھال کرتے۔ علی کی ماں گھر میں بکریاں اور مرغیاں پالتی تھی۔ علی کو کھیتوں میں کام کرنا بالکل پسند نہیں تھا، وہ سمجھتا تھا کہ یہاں گائوں میں محنت زیادہ ہے اور پیسہ کم۔ اسے شہر کی زندگی بہت متاثر کرتی تھی۔ ایک روز وہ صبح سویرے چپکے سے گھر سے کھیت جانے کے بہانے نکلا، اسٹیشن پہنچا اور شہر جانے والی ریل گاڑی میں سوار ہو گیا۔

شہر آ کر اس نے جگہ جگہ نوکری کے لئے دھکے کھائے، رہنے کا کوئی انتظام نہ تھا، سو وہ سڑکوں پر ہی سو جاتا پھر مشکل سے اسے کسی ہوٹل میں بیرے کی نوکری ملی لیکن شہر کی گرد آلود فضا نے اسے بیمار کردیا۔ پہلے پہل اس کو نزلہ کھانسی رہنے لگا، جوں جوں دوا کرتا، مرض اتنا ہی بڑھ جاتا۔ بابا اختر کو جب اپنے بیٹے کی اس حالت کا علم ہوا تو وہ فوراً شہر پہنچا اور اپنے بیٹے کو واپس گاؤں لے آیا۔ گاؤں کے حکیم سے اس کا علاج کروایا، علی کی ماں نے اپنے گھر کی پلی مرغیوں کی یخنی بنا کر پلائی اور اپنے ہی کھیتوں کی تازہ سبزیاں پکا کر کھلائیں ، جس سے دن بہ دن علی کی صحت بہتر ہو گئی۔ اب علی سمجھ چکا تھا کہ ’’دُور کے ڈھول سہانے ‘‘ہوتے ہیں۔ یعنی شہر کی زندگی پُرکشش تو ہے لیکن اتنی آسان اور پُرسکون نہیں، جتنی نظر آتی ہے۔

:اخلاقی سبق

اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اپنی موجودہ حالت اور محنت کی قدر کرنی چاہیے۔ اکثر انسان دور کی چمک دمک سے متاثر ہو کر یہ سمجھ لیتا ہے کہ کہیں اور زندگی زیادہ آسان اور بہتر ہے، لیکن حقیقت ہمیشہ ایسی نہیں ہوتی۔ شہر کی ظاہری خوبصورتی کے پیچھے بھی مشکلات اور پریشانیاں ہوتی ہیں۔ علی نے جب بغیر سوچے سمجھے گھر چھوڑا تو اسے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور وہ بیمار بھی ہو گیا۔ آخرکار اسے احساس ہوا کہ اپنے گھر، گاؤں اور محنت کی زندگی ہی اس کے لیے بہتر تھی۔ اس لیے ہمیں جلد بازی میں فیصلے نہیں کرنے چاہئیں اور اپنے والدین کی بات مانتے ہوئے اپنی موجودہ نعمتوں کی قدر کرنی چاہیے۔

Bahadur Kisan Ka Beta