غلط فہمی سے کامیابی تک
فرح ایف ۔ اے کررہی تھی۔ آج کالج میں اس کا آخری پیپر تھا۔کالج سے واپس آکر فرح آہستہ آہستہ گھر کا مین گیٹ بند کر کے اندرداخل ہوئی۔ ’’پیپر کیسا ہوا آج کا؟ ‘‘ فرح کی امی نے پوچھا۔
’’ جی ! اچھا ہوا۔‘‘ فرح نے آہستگی کے ساتھ مغموم لہجے میں اپنی امی کو آگاہ کیا۔ اس کی امی فرح کا بدلتا رویہ محسوس کررہی تھیں۔ فرح خاموشی سے اپنابیگ رکھ کر یونیفارم بدلنے اورنہانے کے بعد کھانا کھانے کے دوران مستقل خاموش رہی اور کھانا آدھا ادھورا چھوڑ کربیڈ پر جاکر لیٹ گئی اور کہنے لگی۔’’ امی جان! میرے لیے چائے تیار رکھیے گا، میںاُٹھ کر چائے پیوں گی۔ میرے سر میں بہت درد ہے۔‘‘اس کی امی اس کا یہ رویہ اور سر میں درد کی کیفیت سن کریہ سوچتے ہوئے پریشان ہوگئیں کہ یہ تو آخری پیپر دے کر ہمیشہ خوشی سے چہکتی ہوئی ہی آتی تھی مگر آج پتہ نہیںایسا کیوں کہہ رہی ہے؟ اللہ کرے سب خیریت ہو۔
فرح جب سو کر اٹھی تو چپ سی رہی،عصر کی نمازمیں لمبے سجدے اور نمازکے بعد لمبی سسکیوں کے ساتھ دعائیںمانگتے دیکھاتو اس کی امی بےحد فکر مند ہوئیں ۔ اس کے لیے چائے پکائی اور ساتھ میں اس کے لیے بسکٹ اورسموسے کا بھی اہتمام کیا۔’’آئو فرح بیٹی ! آپ کی نماز پوری ہوگئی ہو تو آجائو۔ ہم دونوں ماں بیٹی ساتھ بیٹھ کر چائے پئیں گے اور خوش گپیاں بھی کریں گے ‘‘۔
فرح نےاپنی امی کے بلانے پہ کہا۔ ’’جی اچھا۔‘‘ فرح سسکی والی آواز سے گویا ہوئی تو اس کی امی حیرانی سے اس کی جانب دیکھنے لگیں۔ وہ فوری طور پر اس کے قریب گئیں تو فرح کی بھیگی آنکھیںاور لال ناک دیکھ کرتو ان کے ہوش اُڑ گئے کیونکہ فرح نے تو اس طرح کبھی نہیں کیا تھا۔ اس کی امی نے اس کو اٹھایااور گلے لگا کر بہت پیار کیا،پانی پلایااور رونے کی وجہ دریافت کی۔ فرح بولی! ’’ امی جان ! مجھے لگتا ہے کہ میںفیل ہوکر اپنی سہیلیوں سے پیچھے رہ جائوں۔‘‘
’’اللہ خیر کرے! ایسا کیوں کہہ رہی ہو؟ میں آپ کو کالج سے آکرپریشان دیکھ کر حیران ہوں ، کہ آپ کیوں چُپ ہو۔ آپ تو آخری پیپر دے کر اچھلتی کودتی آتی ہو اور باہر کھانے کی ڈیمانڈ کرتی ہو۔ آپ نے تو میٹرک میں اتنے شاندار نمبرز حاصل کیے تھے۔آپ دل و جان سے پڑھائی میں محنت کرتی ہوپھر ایسا کیوں کہتی ہو۔کیا بات ہوئی، بتائو اپنی امی کو؟‘‘
فرح نے آنسو پونچھے تو بولی۔ ’’ امی میںپیپر دے رہی تھی تو میری سہیلی ماریہ مجھے اورباقی سہیلیوں سے پیپر کی ڈسکشن کرتے کہہ رہی تھی کہ میں بہت زیادہ پیپر میں لکھ کر آتی ہوں۔سارے سوال حل کرتی ہوں اور لمبے لمبے جوابات مختلف کتابوںسے لے کر لکھتی ہوں، پتہ نہیں ! تم سب صرف کتابوں کے سوالات ہی یاد کرکے لکھ لیتی ہو اور امی جان ! آپ کو معلوم ہے کہ وہ جوابی کاپی مکمل کرنے کے بعد ٹیچر سے مزید شیٹ پہ شیٹ لیتی جارہی تھی اورایک طرح کا اتنا موٹا دستہ سٹیپل کر کے دیتی ہے۔‘‘
اس کی امی نے جب یہ ساری تفصیل سنی تو گویا ہوئیں۔’’اچھایہ بات ہےتوپھر یہ بتائو کہ وہ اتنے لمبے لمبے سوال میٹرک میں بھی کرتی رہی تھی تو اُس کے 56% مارکس کیوں آئے ‘‘؟
’’ پتہ نہیں امی! مگر اب واقعی وہ کامیاب ہوگی۔‘‘ فرح پھر سے روناشروع ہوئی تو اس کی امی نے کہا ۔ ’’ بیٹا جی! آپ بس اپنی محنت پہ یقین کیجئے ۔ بلاوجہ پریشان ہونا چھوڑ دیں۔جب محنت کرتی ہو، سارا یاد کر کے مجھ کو سناتی ہو، اس کے بعداپنا کام چیک کر کے غلطیاں سدھارتی ہو۔ فجر کی نماز کے بعد پھر سارا دہراتی ہو اور مجھ کو سنا کر جاتی ہو۔ جب وہاں پیپر دیتی ہو تو آپ خود کہتی ہو کہ مجھ کو سب تیز ی سے یاد آجاتا ہے ، جیسے اللہ پاک ہمیشہ میرے ذہن میںسارے کانسیپٹس ڈالتا ہے تو بس اللہ پہ بھروسا رکھو اور کامیابی کی دعائیں مانگواور تو اور آپ کے ٹیچرز بھی تو آپ کی بہت زیادہ تعریفیں کرتے ہیں ، اسی لیے کچھ لوگ حسد میں آکر ورغلاتے ہیں اور اس کی فطرت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔‘‘
’’امی جان! اس مرتبہ واقعی… ‘‘
ابھی فرح اپنا جملہ مکمل کرنے لگی تھی کہ امی نے بارعب انداز سے اسے روک دیا اور بے فکر ہونے کا کہنے کے ساتھ ساتھ چائے پینے اور بسکٹ اور سموسے کھانے کا مشورہ دیا تو فرح آنسو صاف کرتے ہی کھانے میں اپنی امی کے ہمراہ مشغول ہوگئی۔
ایک ہفتہ فرح کا کالج آف رہا، وہ انتظار میں تھی کہ نجانے کیا رزلٹ آئے گا؟ اس کا یقین ڈگمگا رہا تھالیکن اُس کی امی حوصلہ نہ ہارنے اور گھریلو امور کے ساتھ ساتھ پڑھائی کی طرف اس کا ذہن لگائے رکھتیں ،تاکہ وہ فالتو باتیں ذہن میں لاکر خود کو پریشان نہ کرے۔
رزلٹ کا دن آن پہنچا ۔فرح اپنی امی کے ساتھ دھڑکتے دل کے ساتھ کالج پہنچی تو نوٹس بورڈ پہ سب سے ٹاپ پوزیشن دیکھ کر پریشان وحیران ہوگئی ، اس کی امی خوش ہوئیں تو فرح کو یقین نہ آیا اور کہنی لگی۔ ’’یہ غلط ہے ، میرے نمبرز زیادہ نہیں ہوسکتے ،ماریہ کے ہوںگے ‘‘۔اس کی امی کو غصہ آیا تو وہ اور فرح ٹیچر کے پاس میٹنگ کے لیے پہنچے۔ اس کی لیکچرر مس عاشی نے فوری طورپہ خوشی کا اظہار کیا اوران دونوں کو بٹھا یا، فرح کے آگے پیپرز کیے اوررپورٹ کارڈ دکھا یا تو فرح اپنے ڈھیر سارے نمبرز دیکھ کر ششدر رہ گئی۔ اس کی لیکچرر مس عاشی نے کہا ۔ــ’’فرح ماشاء اللہ بہت اچھی اور باکمال بچی ہے ،بہت ہی نفاست سے پیپرز کیے اور ٹو دی پوائنٹ سوالوں کے جوابات شاندار اندازسے دیئے۔‘‘
فرح یہ سب دیکھتی رہ گئی تو اس کی امی نے کہا۔ ’’ آپ اس کی غلط فہمی دور کردیں۔‘‘
مس بولی۔’’ کیسی غلط فہمی… ؟‘‘
فرح کی امی نے ساری بات بتائی تو مس عاشی کھلکھلاکر ہنس پڑیں اورکہنے لگیں۔ ’’ارے فرح تمہاری معصومیت پہ ہنسی آتی ہے،تم ماریہ کے پیپرز دیکھو گی ؟ ‘‘
’’جی مس…‘‘فرح نے اشتیاق سے کہا۔
’’ویسے تو ہمیں اجازت نہیں مگر تمہاری تسلی کےلیے دکھاتی ہوں تاکہ تم آئندہ کسی کے بھی بہکاوے میں آکر اپنی محنت پہ شک نہ کرو۔‘‘ مس عاشی نے پیپرز کھول کر دکھائے تو دیکھا کہ ماریہ نے بہت کھلے مارجن لگائے ہیں اورہر سوال اور ان کے جوابات لائن چھوڑ کر ،بڑا بڑا کرکے، بڑی ہیڈنگ بنا کر، کھلا کھلا کرکے لکھےہیں نیز پورے پیپرز میں بڑے بڑے ڈیزائن بنا رکھے ہیں، سوالات کے جوابات کی نوعیت دیکھی جائے تو کہیں کوئی جواب باہرکتاب سے نہیں تھا ، سب نصاب سے ہی لیے گئے تھے اور وہ بھی غلطیوں سے بھر پور۔نمبرز بھی اس کے پا س ہونے کی حد تک ہی تھے۔ اتنا کچھ دیکھ لینے کے بعد فرح کی تمام تر غلط فہمی دور ہوگئی تو مس عاشی کہنے لگیں۔ ’’صرف اپنی محنت پہ یقین رکھو۔ آپ نے بہتر انداز سے پیپر زکیے ہیں۔اس طرح ہر صفحہ چاہے تھوڑا بھی خالی رہ جائے تو اس کابھی حساب ہوتا ہے ۔سارے پیپر ز میں ہر لائن کا اچھے سے استعمال کیا ہے۔ اس لیے آگے پختگی کے ساتھ بڑھو اور کسی کی باتوں میں مت آئو۔‘‘
مس کی بات سن کر فرح نے تہیہ کیا کہ اب وہ صرف اپنی محنت اور اللہ کی ذات پہ یقین رکھے گی اور کسی کے بہکاوے میں آکر اپنے آپ کو فیل نہیں قرار دے گی۔
اخلاقی سبق
انسان کو ہمیشہ اپنی محنت، قابلیت اور اللہ پر یقین رکھنا چاہیے۔ دوسروں کی باتوں اور دکھاوے سے متاثر ہو کر خود پر شک کرنا نقصان دہ ہوتا ہے۔ سچی اور خاموش محنت کا پھل ضرور ملتا ہے، جبکہ نمائش اور حسد وقتی تاثر تو دے سکتے ہیں مگر اصل کامیابی نہیں۔ جو شخص صبر، یقین اور لگن کے ساتھ آگے بڑھتا ہے، آخرکار کامیابی اسی کا مقدر بنتی ہے۔

0 Comments
Post a Comment