Jal Pari Ka Khawab Aur Haqeeqat

 

Jal Pari Ka Khawab Aur Haqeeqat Urdu Kahani

جل پری کا خواب اور حقیقت

اس کی عادت تھی کہ وہ یہاں سے گزر نے والے ہر جہاز کو بہت غور سے دیکھتی تھی۔ یہاں  سے بہت کم ہی جہاز گزر تے تھے کیوں کہ یہ سمندر کا وہ حصہ تھا، جو بہت ہی گہرا اور ساحلوں سے دور تھا۔ آج بھی بہت عرصے بعد ایک بحری جہاز وہاں آیا تھا۔ یہ جہاز کافی بڑا اور بہت خوبصورت تھا۔ اسے لائٹوں سے سجا یا گیا تھا، بہت ہی خوبصورت دھن کی آواز جو جہاز کی طرف سے آ ٓرہی تھی، اس دھن نے اسے جہاز کے قریب جانے پر مجبور کردیا۔ اس نے اوپر چڑھ کر چپکے سے جھانک کر دیکھا۔ جہاز کے عرشے پر بہت گہما گہمی تھی، سب لوگ بہت خوش تھے، انہوں نے خوبصورت لباس زیب تن کیئے ہوئے تھے۔ ایک بہت ہی خوبصورت لڑکی، جو سفید خوبصورت لباس میں ملبوس تھی، سب سے الگ لگ رہی تھی۔ وہ ایک نوجوان آدمی کے ساتھ کھڑی تھی، دونوں بہت خوش نظر آرہے تھے۔ اتنے میں اس کی نظر اس لڑکی کے جوتوں پر پڑی، وہ بہت ہی خوبصورت سفید موتیوں سے سجے ہوئے تھے پھر اس نے ایک کے بعد ایک سب کے جوتے دیکھے۔ اسے تما م خواتین کے جوتے اور ان کے چلنے کا انداز بہت اچھا لگا۔ خیالوں ہی خیالوں میں وہ سفید موتیوں والے سینڈل پہن کر جہاز کے عرشے پر چل رہی تھی۔

ابھی وہ اپنے خیالوں میں گم تھی کہ ایک چہرہ اچانک اس کے سامنے آگیا، پھٹی ہوئی بڑی بڑی آنکھیں اور حیرت سے کھلا ہوا مُنہاس نے گھبرا کر عرشے پر سےہاتھ چھوڑ دیئے اور ایک چھپاکے کے ساتھ پانی میں جاگری۔ گرتے ہوئے اسے ایک بچے کے چیخنے کی آواز آرہی تھی، جو چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ میں نے ابھی یہاں جل پری دیکھی ہے، وہ کسی کو یقین دلا نے کی کوشش کررہا تھا ۔

وہاں سے آنے کےبعد جل پری اب ہر وقت اُن سفید سینڈل کے خیالوں میں کھوئی رہتی۔ آخر کار اسے ایک جادوگرنی کا پتا چلا ،جو اس کی خواہش پوری کرنےمیں اس کی مدد کرسکتی تھی۔ وہ جادو گرنی اندھیرے سمندر میں رہتی تھی۔ جل پری نے اس کے پاس جانے کا ارادہ کیا۔جل پری کے پاس چار قیمتی موتی تھے، یہ موتی جل پریوں کے لئے بہت اہمیت رکھتے تھے۔ جس جل پری کے پاس جتنے زیادہ موتی ہوتے، وہ اتنی ہی باعزت اور امیر سمجھی جاتی تھی۔ لمبا اور کٹھن سفر طے کر کے جل پری جادوگرنی کے پاس پہنچی۔ جادو گرنی نے اس کی بات سنی اور تین قیمتی موتی لے کر اسے دو شیشیاں دیں۔ ایک شیشی کاسنی مہلول سے بھری تھی اور دوسری لال مہلول سے۔ جادوگرنی نے کہا کہ جب تم ساحل پر پہنچنا تو کاسنی رنگ کا مہلول پی لینا، جب تمہیں واپس آنا ہو تو لال رنگ کا مہلول پی لینا۔

جل پری دونوں شیشیاں لے کر ساحل کی طرف تیرنے لگی۔ ساحل پر پہنچ کر اس نے کاسنی رنگ کا مہلول پیا، دیکھتے ہی دیکھتے اس کے پاؤں نمودار ہوگئے اور مچھلی جیسی خوبصورت دم غائب ہوگئی۔ شروع میں تو وہ کچھ لڑکھڑائی لیکن جلد ہی چلنا سیکھ گئی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ زمین پر ہر طرف خوبصورت لباس اور جوتے پہنے لوگ گھوم رہے ہوں گے، جن کے چہروں پر مسکراہٹ اور خوشی ہوگی۔ جیسا کہ اس نے بحری جہاز پر دیکھا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک قیمتی موتی تھا، جس کے بدلے اسے سفید سینڈل خریدنے تھے۔شام کا وقت ہوچکا تھا ،وہ ساحل سے کچھ دور بازار کی طرف آئی تو اسے احساس ہوا کہ یہاں کی دنیا توبالکل الگ ہے۔ یہاں اکثر لوگ عام سے کپڑے پہنے ہوئے تھے، جو بالکل بھی خوبصورت نہ تھے اور ان کے چہرے سنجیدہ تھے۔ کچھ لوگ اس سے بھی بری حالت میں تھے۔ ان کے کپڑے پھٹے پرانے تھے، پیروں میں بوسیدہ اور ٹوٹے ہوئے جوتے تھے، کچھ کے پیروں میں تو جوتے ہی نہیں تھے۔ ہر کوئی اپنے کام میں مگن تھا، کسی کو کسی سے کوئی مطلب نہیں تھا۔ وہ حیرت سے سب کو دیکھ رہی تھی اور چلتی جارہی تھی کہ اچانک ایک طرف سے کافی شور سنائی دیا۔ کچھ لوگ ایک دکان کا سامان باہر پھینک رہے تھے۔ وہ آدمی ان کے پیر پکڑ رہا تھا، التجاء کر رہا تھا کہ اسے کچھ وقت اور دیا جائے، وہ ان کے پیسے لوٹا دے گا لیکن وہ اسے ٹھوکر مار کر ایک طرف کردیتے۔

جل پری سے یہ سب کچھ دیکھا نہ گیا، وہ گھبرا کر وہاں سے دور ہوگئی۔ کچھ دور جاکر وہ ایک کونے میں کھڑی ہوگئی تھی۔ اسے سمجھ نہیں آرہاتھا کہ کہاں جائے، کس سے بات کرے۔ اتنے میں اس کے قریب سے آواز آئی۔

’’آپیآپیمجھے بہت بھوک لگ رہی ہے، کھانا لاؤنا۔‘‘ ایک چھوٹا بچہ ایک بچی سے کہہ رہا تھا، وہ بچی بھی مشکل سے گیارہ بارہ برس کی ہوگی۔

’’آپی! مجھے بھی بھوک لگی ہے۔‘‘ ساتھ بیٹھے تین سال کے ایک بچے نے بھی قریب ا ٓکر کہا۔ بچی اپنے دونوں بھائیوں کو تسلی دینے لگی کہ وہ جلد ان کے لیے کھانا لائے گی لیکن اس کی آنکھوں میں  موجود آنسو اور چہرے سے جھلکتی پریشانی بتارہی تھی کہ یہ اس کے لیے اتنا آسان نہیں ہے۔

’’تمہارے والدین کہاں ہیں؟‘‘ جل پری نے اس بچی سے پوچھا۔

’’وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے۔‘‘ بچی کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے۔

جل پری نے کچھ دیر سوچا اور پھر مسکراتے ہوئے قیمتی موتی بچی کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے کہا۔ ’’یہ موتی بہت قیمتی ہے۔ اس سے تمہاری ساری ضرورتیں پوری ہوجائیں گی۔ ‘‘

موتی بچی کے حوالے کر کے جل پری ساحل کی طرف چل پڑی۔ ساحل کے قریب آ کر اس نے شیشی سے لال مہلول پیا اور سمندر میں چھلانگ لگادی۔

اخلاقی سبق

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ اصل خوبصورتی اور خوشی چیزوں، لباس اور خواہشات میں نہیں بلکہ انسانیت، ہمدردی اور دوسروں کے دکھ درد کو سمجھنے میں ہوتی ہے۔

جل پری نے جس دنیا کو خوابوں کی طرح سمجھا تھا، حقیقت میں وہ دکھ، غربت، تکلیف اور محرومی سے بھری ہوئی تھی۔ جب اس نے انسانوں کے دکھ دیکھے تو اس کی خواہش خود غرضی سے نکل کر قربانی میں بدل گئی، اور اس نے اپنی سب سے قیمتی چیز ایک مجبور بچی کو دے دی۔

Ghalat Fehmi Se Kamyabi Tak | غلط فہمی سے کامیابی تک

Post a Comment

0 Comments