باغ کی تتلی اور دوستوں کی بہادری
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک خوبصورت باغ میں جو رنگ برنگ پھولوں اور ہریالی سے بھرا ہوا تھا۔ ایک نازک اور خوبصورت تتلی رہتی تھی، اُس کا نام قوس قزح تھا۔ اس تتلی کے پروں پر بہت خوب صورت رنگ بنے ہوئے تھے جو سورج کی روشنی میں چمکتے ہوئے بہت بھلے لگتے تھے اور ہر دیکھنے والے کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیتے تھے۔ اس تتلی کے ساتھ اُس کی دیگر ہمجولیاں بھی اسی باغ میں رہتی تھیں۔ اسی باغ میں شہد کی مکھیاں بھی رہتی تھیں۔ ان شہد کی مکھیوں سے ان تتلیوں کی لڑائی رہتی تھی۔ تتلیوں کے پَر رنگ برنگ کے تھے، اسی لیے اُنہیں اپنے پروں پر ناز تھا۔ اسی وجہ سے وہ شہد کی مکھیوں کو مرعوب کرنے کے لیے اُن سے بات نہ کرتی اور اپنی خوشیوں میں شریک بھی نہ کرتیں۔ان تتلیوں کی یہ حرکت قوس قزح کو ناگوار گزرتی تھی۔ قوس قزح چاہتی تھی کہ تمام تتلیاں مل جل کر رہیں اور باغ کی تمام رہائشیوں کے ساتھ بھی ہنسی خوشی سے رہا کریں۔
ایک سنہری صبح، جب قوس قزح تتلی باغ میں اٹکھیلیاں کرتے ہوئے ایک پھول سے دوسرے پھول پر پھڑپھڑا رہی تھی تو اس نے ایک انوکھی چیز دیکھی۔ اس نے دیکھا کہ باغ کے بہت سے پھول مرجھا رہے تھے اور ان کی پتیاں بکھر رہی تھیں۔ یہ دیکھ کر تتلی کا دل ڈوب گیا۔ وہ سمجھ گئی کہ اس کا پیارا باغ مشکل میں ہے۔ اس نے اپنی تمام ہمجولیوں کو اس ناخوش گوار واقعہ سے آگاہ کیا اور پھولوں کے اُجڑنے کی وجہ جاننے کا فیصلہ کرلیا۔
جب قوس قزح نے غور سے پھولوں کا مشاہدہ کیا تو اسے پتہ چلا کہ بے شمار پاؤں والی لمبی لمبی سنڈیاں باغ کے پھولوں کی پتیاں چبا رہی تھیں۔ یہ کالے، پیلے رنگ کی ڈراؤنی سنڈیاں پھولوں کو بہت نقصان پہنچا رہی تھیں۔ تتلی جانتی تھی اگر سنڈیوں نے اپنی یہ دعوت جاری رکھی تو اس کا باغ جلد ہی اپنی خوبصورتی کھو دے گا۔ اس مسئلہ کا حل تلاش کرنے کے لیے پریشان تتلی بھاگی بھاگی ایک عقلمند بوڑھے الّو کے پاس پہنچی جو اسی باغ میں ایک اونچے درخت کے اوپر رہتا تھا۔
عقل مند الّو نے پوری توجہ سے تتلی کی بات سنی۔ کچھ دیر آنکھیں بند کر کے سوچا اور پھر تتلی کو مشورہ دیا کہ وہ ان سنڈیوں سے پھولوں کی جان بچانے کے لیے سرخ بھنوروں کی مدد حاصل کرے۔ یہ سرخ بھنورے ان سنڈیوں کے جانی دشمن تھے۔ عقل مند الّو کے مشورے پر تتلی نے سرخ بھنوروں کو اپنی مدد کے لیے پکارا اور ان سب کو اکٹھا کر کے باغ میں لے گئی۔ بھنورے ان سنڈیوں کو بڑے شوق سے کھاتے تھے۔ سنڈیوں کو دیکھتے ہی سرخ بھنوروں نے ان پر حملہ کردیا اور ان کو اپنا نوالہ بنانا شروع کر دیا۔ بھنوروں نے ان سنڈیوں سے اپنی جان بچانے کے لیے وہاں سے دوڑ لگا دی۔ کچھ سنڈیاں، بھنوروں کا نوالہ بن گئیں جو تھوڑی بہت بچیں، وہ کہیں جا کر چھپ گئیں۔
اب باغ دھیرے دھیرے بحال ہونا شروع ہوگیا اور پھول دوبارہ اپنی خوب صورتی حاصل کرنے لگے۔ قوس قزح خوش ہو گئی۔ اس نے سمجھا کہ اب مسئلہ حل ہوگیا ہے لیکن ایک روز باغ میں زور کی آندھی چلی اور تیز ہوا ان سارے سرخ بھنوروں کو اُڑا کر کہیں دور لے گئی۔ یہ دیکھ کر قوس قزح پھر پریشان ہو گئی۔ وہ سمجھ گئی کہ سرخ بھنوروں کے جانے کے بعد سنڈیاں ایک بار پھر باغ پر حملہ کردیں گی اور ہوا بھی یہی۔ سنڈیاں باغ میں واپس آگئیں۔
قوس قزح بھی ہار ماننے کو تیار نہ تھی۔ اس مرتبہ اس نے شہد کی مکھیوں سے مدد طلب کی چونکہ قوس قزح اچھی اور نیک تتلی تھی، اسی لیے شہد کی مکھیاں اس کی مدد کرنے پر آمادہ ہوگئیں۔ یہ مکھیاں اسی باغ میں چھتا بنا کر رہتی تھیں اور باغ کے خوب صورت پھولوں سے رس حاصل کر کے اپنا شہد بناتی تھیں۔ انہوں نے مل کر باغ کے گرد ایک حفاظتی ڈھال بنائی اور سنڈیوں کو باغ میں داخل ہونے سے روکنا شروع کردیا۔ جو سنڈیاں باغ میں گھس چکی تھیں ان کو ڈنک مار مار کر وہاں سے بھگا دیا۔
شہد کی مکھیوں کی مدد سے، باغ ایک بار پھر پھلنے پھولنے لگا اور پھول چمک دارہونے لگے۔ قوس قزح یہ دیکھ کر ایک بار پھر خوش ہوگئی۔ اُس نے اپنی تمام ہمجولیوں کو دوبارہ سمجھایا کہ مل جل کر رہنے اور ایک دوسرے کی مدد کرنے سے اپنے راستے میں آنے والی ہر پریشانی اور مشکل پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ اس کے سمجھانے پر تمام تتلیوں نے شہد کی مکھیوں سے معافی مانگی اور پھر باغ ایک مرتبہ پھر خوشیوں کا گہوارہ بن گیا۔
اخلاقی سبق
دوستی اور اتحاد کی اہمیت
قوس قزح نے دکھایا کہ اگر ہم سب مل جل کر رہیں اور ایک دوسرے کی مدد کریں، تو کسی بھی مشکل یا خطرے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
نیکی اور مددگار ہونا
قوس قزح کی نیکی اور شہد کی مکھیوں کی مدد نے باغ کو دوبارہ خوشیوں سے بھر دیا۔ ہمیں بھی دوسروں کی مدد کرنی چاہیے، خاص طور پر جب کوئی پریشان ہو۔
حکمت اور عقل مندی
تتلی نے مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے عقلمند الّو کی رہنمائی لی۔ یہ سکھاتا ہے کہ مشکل وقت میں عقل اور مشورے سے کام لینا چاہیے۔
حفاظت اور ذمہ داری
باغ کی حفاظت کے لیے تتلی اور اس کے دوستوں نے مل کر کام کیا۔ یہ سبق دیتا ہے کہ اپنے ماحول اور دوسروں کی حفاظت کرنا ضروری ہے۔
معافی اور بھائی چارہ
تتلیوں نے شہد کی مکھیاں معاف کیں اور دوبارہ خوشی کے ساتھ رہنا شروع کیا۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اختلافات کے بعد معافی اور بھائی چارہ قائم رکھنا چاہیے۔

0 Comments
Post a Comment