Dosti, Taawun aur Mehnat ki Kahani

 

Dosti, Taawun aur Mehnat ki Kahani

دوستی، تعاون اور محنت کی کہانی

ریحان اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا اور ساتویں جماعت کا طالب علم اور کلاس کا سب سے ہونہار بچہ تھا۔ لیکن کبھی کبھی کسی نہ کسی وجہ سے اس کے مزاج بگڑ بھی جاتے تھے۔ ریحان کی ایک عادت تھی کہ وہ اکثر ہر کسی کا مذاق اُڑاتا جس کی وجہ سے اکثر لوگ اس سے خفا بھی رہتے تھے۔

ریحان کی کلاس میں ہی ایک طالب علم جس کا نام احمد تھا، نہایت نیک دل اور اساتذہ کا تابعدار بچہ تھا۔ ریحان اور احمد میں کافی اچھی دوستی بھی تھی۔

شدید سردی اور فوگ کے باعث اسکولز بند تھے لیکن جیسے ہی فوگ میں کچھ کمی واقع ہوئی تو اسکولز کھلنے کے بعد احمد اور ریحان اسکول گئے اور چھٹیوں کے حالات اور واقعات سب بچوں نے ایک دوسرے کے ساتھ کھل کر شیئر کیے لیکن احمد تقریباً خاموش رہا۔ اُس کی طبیعت بالکل بھی صحیح نہیں تھی، اچانک احمد ایک دَم چکرا کر گرا اور بے ہوش ہوگیا۔ جس سے سب بچے شدید خوف زدہ ہوگئے۔ احمد کو بےہوش دیکھ کر تمام ٹیچرز اور میڈم احمد کو ہوش میں لانے کے لیے کوششیں کرتے رہے۔ میڈم نے احمد کے گھر والوں کو فون کیا تو وہ دوڑے چلے آئے۔ احمد ہوش میں تو آگیا، لیکن اس کو کافی تیز بخار تھا۔ اب احمد کو اس کے والدین ہسپتال لے کر گئے تو ڈاکٹرز نے مختلف ٹیسٹ کیے جس سے معلوم ہوا کہ اس کو ڈینگی بخار ہوگیا ہے۔ اور ایک ہفتہ احتیاط کا مشورہ بھی دیا گیا۔

احمد کافی دنوں بعد بحالی صحت کے ساتھ اسکول پہنچا تو سب بچے ٹیچرز احمد سے مل کر بےحد خوش ہوئے۔ ریحان بھی احمد سے مل کر بےحد خوش ہوا، لیکن ساتھ ہی فطرت کی بناء پر احمد کو تاکید کرنا شروع کردی کہ اگر تم اچھے سے پڑھو گے نہیں، سارا سلیبس کور نہیں کرو گے تو امتحانات میں فیل ہوجائو گے کیونکہ امتحانات قریب آرہے ہیں اور آج ہمیں ڈیٹ شیٹ بھی مل جائے گی۔ یہ سب جان کر احمد کو شدید رنج ہوا اور وہ اسکول اسمبلی سے لے کر کلاس کے تھرڈ پیریڈ تک خاموش رہا۔ اس کی خاموشی اور پریشانی دیکھ کر مس کنزہ جو کہ سب سے سمجھدار ٹیچر تھیں، دیکھتے ہی احمد کو اپنے پاس بُلایا اور پوچھا کیا ماجرا ہے، آپ کیوں پریشان ہو؟ احمد کچھ دیر خاموش کھڑا رہا پھر احمد بولا۔ مس! اب سالانہ امتحان قریب آرہے ہیں، میری تیاری نہیں۔ اس طرح میں امتحان میں ناکام ہوسکتا ہوں۔ سلیبس بھی کور نہیں ہے اور تمام رپورٹ فائل اور کمنٹس فائل میں میں میری کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ میں یہ سب کیسے مکمل کروں گا؟ یہ سب سُن کر پاس بیٹھا ریحان تیزی سے اُونچی اُونچی ہنسنے لگ گیا۔ اس کی قہقہوں بھری ہنسی دیکھ کر مس کنزہ نے ریحان سے کہا۔ ایسا نہیں کرتے، کسی کی مجبوری کا مذاق نہیں بناتے۔ احمد چھٹی پر تھا اور ہم سب کو اس کی وجہ معلوم ہے۔ مس کنزہ کی باتیں سُن کر ریحان غصے سے بولا کہ جب پڑھا ہی نہیں تو پاس کیسے ہوگا اور اگر پاس بھی ہوگیا تو مشکل سے ہی ہوگا اور یہ بات آپ خود کہتی تھیں۔ ریحان کو اس طرح بولتا دیکھ کر مس کنزہ بچوں کے سامنے شرمندہ ہوئیں۔ تھوڑی دیر میں مس کنزہ نے کلاس کا ماحول صحیح کروایا اور کام کروانے لگ گئیں۔

کچھ دیر بعد بریک کا ٹائم ہوگیا۔ مس کنزہ نے اسکول میڈم اسماء سے ذکر کیا تو انہوں نے ریحان کو بُلایا اور سمجھایا کہ دیکھو بیٹا، اگر تم اس طرح کرتے رہو گے تو اس سے تمہاری اپنی شخصیت خراب ہوگی اور تم کچھ نہیں کرسکو گے، کیا اُستاد کے سامنے اُونچی آواز سے بولنا اور اپنے دوستوں کا مذاق اُڑانا اچھی بات ہے۔ احمد کی جگہ تم بھی بیمار پڑھ سکتے تھے۔ احمد پڑھنے والا ہے، ایسے ہی جیسے آپ ہو۔ جب آپ ذمہ داری سے پڑھتے ہو تو وہ بھی پڑھ سکتاہے۔ جس نے پڑھنا ہوتا ہے، وہ راتوں رات محنت کرکے کامیاب ہوجاتا ہے جس نے نہیں کرنا، وہ کچھ نہیں کرسکتا۔

یہ سب سننے کے بعد ریحان خاموشی سے کلاس روم میں میڈم کے کہنے پر مس سے سوری کرکے کلاس روم میں چلا گیا۔ چھٹی کے وقت ریحان خاموشی کے ساتھ گھر جانے کے لیے تیار ہوا تو احمد بولا۔ آئو یار اکٹھے گھر چلیں۔ ریحان جوکہ تنقید برداشت نہیں کرسکتا تھا، غصہ میں بولا۔ میری ٹانگیں اور ہاتھ پائوں سلامت ہیں، میں تمہاری طرح بیمار نہیں ہوں، میں خود ہی گھر جاسکتا ہوں۔ ریحان یہ کہتے ہوئے اسکول سے باہر نکل گیا۔

سڑک کراس کرنے کے دوران ہی اس کے پاس تیزی سے گاڑی آئی جسے ریحان نہ دیکھ سکا اور یک دَم ریحان سے ٹکرا گئی۔ ریحان شدید زخمی حالت میں زمین پر گِرگیا۔ گاڑی والا بھی پریشان کھڑا رہا جس کی گاڑی سے ریحان ٹکڑا کر گِرگیا اور بے ہوش ہوگیا تھا، احمد کا اُسی سڑک سے گزر ہوا اور ہجوم دیکھ کر اور ریحان کو زمین پر پڑا دیکھ کر تیزی سے اس کی جانب لپکا اور ریحان کو دیگر لوگوں کی مدد سے اُٹھا کر پاس ہی ہسپتال لے کر گیا۔ احمد نے فوری طور پر اس کے والدین کو فون کرکے اطلاع دی۔ کچھ ہی دیر میں ریحان کے والدین ہسپتال پہنچ گئے۔ چند گھنٹوں بعد ریحان کو ہوش آیا۔ ڈاکٹرز نے اس کی حالت کو دیکھ کر بتایا کہ ریحان بہتر ہے لیکن اس کو شدید چوٹیں آئی ہیں، جس کی وجہ سے اس کی خاص نگہداشت کرنی پڑے گی۔ اب ریحان شام کے وقت اپنے گھر پہنچ گیا۔ احمد اپنے والدین کے ہمراہ ریحان کا حال پوچھنے اس کے گھر پہنچا۔ ریحان چُپ چاپ بستر پر لیٹا رہا۔ اب اس کے ہاتھ، پائوں اور ٹانگوں پر پٹیاں تھیں۔ ریحان بھی دو تین ہفتے اسکول نہیں جاسکتا تھا۔ احمد نے نہایت ذمہ داری کا ثبوت دیا۔ اگلے دِن اسکول پہنچا تو ریحان کے والد کے ساتھ مل کر اسکول انتظامیہ سے بات کی اور اس کی چھٹی منظور کروائی۔ پھر باقاعدہ چھٹی کے بعد اس کے گھر جاتا، اس کی خیریت پوچھتا، اس کو میتھس، سائنس اور انگلش پڑھاتا اور سمجھاتا اور اسکول کے کاموں کے متعلق معلومات، ٹیسٹ، ڈیٹ شیٹ اور ایگزامینیشن کے متعلق بتاتا تاکہ اس کی پڑھائی کا حرج نہ ہو اور اس کی پوزیشن ہر صور ت برقرار رہے۔اب ریحان خاموشی سے علاج کرواتا، پرہیزی کھانے کھاتا اور گھر بیٹھ کر اپنے دوست احمد کی وجہ سے سالانہ امتحان کی تیاری کرتارہا۔ چند دنوں بعد ریحان صحت یاب ہوکر اسکول پہلے پیپر والے دن پہنچا۔ تمام ٹیچرز، میڈم اور کلاس فیلوز نے اس کا استقبال کیا۔

مس کنزہ امتحانات کے بعد ریحان اور احمد کا رزلٹ دیکھ کر بولیں کہ احمد کی توجہ اور تعاون سے ریحان نے 90% مارکس لیے ہیں اور احمد نے خود 95% مارکس لیے ہیں۔ مس کنزہ نے احمد اور ریحان کو ان کا رزلٹ دکھایا تو دونوں نہایت خوش ہوئے۔ مس کنزہ نے ریحان کو سمجھایا۔ دیکھو۔ آپ بہت اچھے بچے اور محنتی طالب علم ہو، آپ نے بہت محنت کی ہے۔ لیکن آپ کی اصل محنت کا کریڈٹ احمد کو جاتا ہے، کیونکہ اس نے آپ کی بہت مدد کی ہے۔ آپ نے اس کا بہت مذاق اُڑایا تھا، جو نامناسب تھا۔ ریحان ہمیں کبھی ایسے الفاظ استعمال نہیں کرنے چاہئیں جو آگے چل کر ہمارے لیے شرمندگی کا باعث بنیں۔ تنقید ہمیشہ اُس وقت اچھی ہوتی ہے جب ضرورت ہو کہ بندہ کی اصلاح ہوسکے لیکن کسی کی مجبوری کا فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔ سب کے احساسات اور جذبات کو سمجھ کر ہی آگے بڑھنا چاہیے۔ یہ سب سُن کر ریحان نے فرطِ جذبات میں آکر احمد سے اپنے گزشتہ رویے کی معافی مانگی تو احمد نے بھی اس کو معاف کردیا۔ اس طرح ریحان کی فطرت میں اصلاح کا عُنصر بیدار ہوگیا۔ اب احمد اور ریحان دونوں بہت اچھے اور پکے دوست بن گئے۔

پیارے بچوں! ہمیں نہ تو کبھی اپنی بہترین تعلیمی کارکردگی اور کسی کارنامے پر فخر کرنا چاہیے اور نہ ہی کبھی کسی کا مذاق اُڑانا چاہیے اور بڑوں، چھوٹوں سب کی عزت اور احترام کرنا چاہیے۔

اخلاقی سبق

دوستی اور تعاون بہت قیمتی ہیں۔ کبھی کسی کا مذاق نہیں اُڑانا چاہیے اور دوسروں کی مدد کرنا ہمیشہ انسان کی شخصیت نکھارتا ہے۔ محنت اور ذمہ داری سے کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

Bagh Ki Titli Aur Doston Ki Bahaduri

Post a Comment

0 Comments