Namaz, Cycle Aur Ittihad Ki Sabaq Amoz Kahani

 

Namaz, Cycle Aur Ittihad Ki Sabaq Amoz Kahani

نماز، سائیکل اور اتحاد کی سبق آموز کہانی 

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی گاؤں کی مسجد میں ایک امام صاحب رہتے تھے ،جو گاؤں کے لوگوں کو نماز باقاعدگی سے ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اُنہیں حسنِ سلوک ، اتحاد و اتفاق سے رہنے کی تلقین بھی کرتے تھے۔ اپنی معتبر شخصیت کی بناءپر پورے گاؤں میں بہت مشہور و معروف تھے۔ ایک مرتبہ امام صاحب نے سوچا کہ کیوں نہ گاؤں کے بچوں کو بھی نماز کی باقاعدگی کے ساتھ ادائیگی کی جانب راغب کیا جائے ۔ اس مقصد کی تکمیل کے لئے انھیں ایک ترکیب سوجھی، اُنہوں نے گاؤں کے تمام بچوں اور ان کے بزرگوں کو مسجد میں مدعو کیا ۔ سب بچوں اور ان کے بزرگوں کے مسجد میں آنے کے بعد امام صاحب نے وعظ دینا شروع کیا اور پھر ایک حدیث مبارکہ بیان کی ’’نماز دین کا ستون ہے، جس نے اسے ڈھا دیا اس نے گویا دین کو ڈھا دیا‘‘ جہاں ہمارے دین میں نماز معاشرے کے لوگوں میں اتفاق و اتحاد ، یگانگت سے جینے کا درس دیتی ہے، وہیں بچوں کو سات سال کی عمر میں نماز کی پابندی کی تلقین بھی کی گئی ہے۔ اس لئے میں نے آپ سب بچوں کو نماز کی جانب راغب کرنے کے لئے ایک فیصلہ کیا ہے ۔

سب بچوں اور بڑوں نے انتہائی حیرت اور خوشی کی ملی جلی کیفیات سے ایک دوسرے کی جانب دیکھا تو امام صاحب نے ہنستے مسکراتے ہوئے عرض کیا ۔’’اب گاؤں کے وہ تمام بچے جو نماز نہیں پڑھتے، آج سے باقاعدہ پانچ وقت چالیس دن تک جو بچے نماز پڑھیں گے، اُنہیں مسجد انتظامیہ کی جانب سے ’’سائیکل بطور تحفہ‘‘ دی جائے گی ۔ بچے سائیکل کا نام سنتے ہی خوشی سے کھل اٹھے۔ ہر بچے نے سوچا کہ میں سائیکل چلاؤں گا تو کسی نے سوچا میں سائیکل چلا کر اپنی امی کے لئے سودا لے کر آؤں گا۔

اب امام صاحب نے اعلان کردیا کہ کل سے سب بچے چالیس دن تک باقاعدہ پانچ وقت کی نمازیں پڑھیں گے ۔ تاکہ سائیکل کے حقدار بنیں۔ اب تقریباً تمام بچوں بالخصوص عاصم،قاسم، شعیب اور عمران نے چالیس دن تک باقاعدہ نمازیں پڑھیں اور اس طرح ان میں نماز کی عادت بھی پختہ ہوگئی۔

انعام کا دن آیا ، سب بچے اور ان کے والد عشاء کی نماز کے بعد انعام کے حصول کے لئے مسجد میں اکٹھے ہوگئے ۔ امام صاحب جو اس سارے معاملے کو چالیس دن تک مانیٹر کررہے تھے، نے اعلان کیا کہ سب بچوں نے بہت ہمت اور شوق و جذبے سے نمازیں پڑھیں لیکن باقاعدہ نمازیں پڑھنے کے حقدار چار بچےہیں ۔ عاصم ، قاسم ، شعیب اور عمران، انہوں نے باقاعدہ پانچ وقت کی نمازیں چالیس دن تک پڑھی ہیں ۔ امام صاحب نے مسجد کے ایک خادم سے کہا کہ سب بچوں میں ٹافیاں بانٹیں ،ٹافیاں بانٹنے کے بعد سائیکل لینے کی باری آئی۔ سائیکل لینے والے چار بچے تھے لیکن سائیکل صرف ایک ہی تھی۔ امام صاحب نے سائیکل چاروں بچوں کو دے دی۔ چاروں بچے سائیکل لے کر خوش تو ہونے لگے مگر حیران و پریشان بھی ہوئے کہ اب سائیکل کو ہم چاروں بچے کس طرح چلائیں گے۔ حالانکہ سائیکل ایک ،انعام کے حقدار ہم چاروں ۔ جب کہ شوق چاروں کو ہی سائیکل چلانے کا ہے ۔

ایسے میں مسجد کے خطیب محمد ریاض خان لاشاری تشریف لائے جو بچوں کو قرآن بھی پڑھاتے تھے۔ اُنہوں نے سب سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا ’’مسجد چونکہ اللہ کا گھر ہے اور اتحاد و اتفاق کی جگہ ہے ،نماز پنجگانہ اتفاق و اتحاد کا درس دیتا ہے ، ہمارا دین حسن سلوک و معاشرت کو فروغ دینے کا اہم ذریعہ گردانا جاتا ہے۔ مل جل کر رہنا، مل بانٹ کر کھانا پینا اور چیزوں کے استعمال کو ترجیح دیتا ہے ۔ لہٰذا آپ چاروں  لڑکوں سے ایک گزارش ہے کہ آپ مل جل کر ایک ایک دن اس سائیکل کا استعمال کریں اور اس کو چلائیں ۔ کیا ایسا کرنا آپ چاروں بچوں کے لئے ممکن ہے؟ چاروں بچوں نے سوچ کر کہا۔’’جی قاری صاحب بالکل! ہم سب مل کر اس سائیکل کو ایک ایک دن چلائیں گے۔

سب بچوں نے خوشی خوشی قاری صاحب کی اس تجویز کی تائید کی ۔ امام صاحب اور قاری صاحب خوش ہوئے تو دونوں نے گاؤں کے افراد اور بچوں سے فرمایا۔ ’’سائیکل کو اپنا پیارا ملک سمجھو اور آپ چاروں اس کو چاروں صوبے پنجاب، سندھ، خیبرپختونخواہ اور بلوچستان سمجھو، اس کے ساتھ خود کو گلگت بلتستان بھی جانو۔ یہ معاملہ ہمیں جہاں اتفاق و اتحاد سے مل جل کر رہنے کا درس دیتا ہے، وہاں یہ اپنے پیارے ملک پاکستان کو بھی نسلی امتیاز و صوبائی تعصبات سے بالا تر ہوکر ترقی دینے کا درس دیتا ہے۔ چاروں بچوں نے خوشی خوشی امام صاحب اور قاری صاحب سے دین اسلام اور وطن سے محبت و ترقی کی نصیحت سن کر مل جل کر رہنے اور ملک و قوم کی ترقی کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کا عہد کیا۔

اخلاقی سبق

اس کہانی سے ہمیں یہ سیکھنے کو ملا کہ نماز پڑھنا، ایماندار ہونا اور محنت کرنا بہت ضروری ہے۔ ساتھ ہی، اتحاد، تعاون اور دوسروں کے ساتھ چیزیں بانٹنا ہمیں اچھا دوست اور اچھا انسان بناتا ہے۔ ہمیشہ مل جل کر رہیں اور دوسروں کا خیال رکھیں، اس سے ہمارا گھر، ہمارا اسکول اور ہمارا ملک خوشحال بنتا ہے۔

Motto Reech Aur Jangal Ki Kahani

Post a Comment

0 Comments