Narar Hathi Ki Sabaq Amoz Kahani

نارار ہاتھی کی سبق آموز کہانی

ایک ہاتھی کا بچہ جس کا نام نارار تھا، بہت ہی موٹا تھا۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد وہ کچھ نہ کچھ کھاتا رہتا، اس کی اس عادت کی وجہ سے اس کے گھر والے عاجز و تنگ ہوتے اور اسے سمجھاتے کہ اگر اسے بھوک لگی ہے تووہ طاقت دینے والی چیزیں کھائے نہ کہ چپس ، بسکٹس سے اپنا پیٹ بھرے مگر وہ سنتا ہی نہیں تھا ۔جہاں بیٹھا ہوتا وہیں کافی دیر بیٹھا رہتا ، وہ اسکول میں بھی ہاف بریک کا انتظار کرتا اور پڑھائی پہ دھیان کم دیتا اور جیسے ہی ہاف بریک کی گھنٹی بجتی ،وہ اپنی طرف سے تو کینٹین میں جلدی جانے کی کوشش کرتا مگر اس کا وزن زیادہ ہونے کی وجہ سے اس سے جلدی نہ جایا جاتا اور جب تک وہ کینٹین میں پہنچتا اچھی خاصی کھانے کی چیزیں ختم ہوچکی ہوتیں اور اسے ایک دو پیٹیز یا سموسے ہی مل پاتے اور وہ سوچتا کہ کل جلدی آنے کی کوشش کروں گا تاکہ تھوڑی اور کھانے کی چیزیں مل جائیں ۔

ایک دفعہ اسکول میں سالانہ کھیلوں کے مقابلے شروع ہوئے نارار ہاتھی کے سر نے ساری کلاس کو ریسنگ کرنے کے لئے میدان میں کھڑا کیا اور سب ہاتھیوں کو دوڑایا ، سب ہاتھی تیز بھاگتے ہوئے آگے نکل گئے مگر نارار ہاتھی ہلکا ہلکا بھاگتا ہوا آخری نمبر پر آیا ، سر نے پہلے دس نمبروں پر آئے ہاتھیوں کو اگلے مرحلے کے لیے چن لیا ، نارار ہاتھی کو آخری نمبر پر آنے کا بے حد دکھ ہوا اور اسکول میں باقی ٹائم غمزدہ رہا ۔

گھر واپس آکے بھی اس کا چہرہ اترا ہوا تھا اور اس نے کھانا بھی ٹھیک سے نہیں کھایا اور چپ چاپ اپنے کمرے میں جاکے بیٹھ گیا ، تھوڑی دیر بعد اس کے دادا جان اس کے کمرے میں آئے اور اس سے یہاں وہاں کی باتیں کرنے لگے پھر انہوں نے اس سے اداسی کی وجہ پوچھی ، نارار ہاتھی نے انہیں اسکول کے اسپورٹس میں پیش آنے والی ساری بات بتائی ، اس کی ساری باتیں سننے کے بعد دادا جان تھوڑی دیر چپ بیٹھے رہے اور پھر نارار سے بولے۔’’ میری باتیں آپ کو بری تو لگیں گی آپ چاہو تو میری پوری بات سنو اور ان پہ عمل کرنے کی کوشش کرو اور چاہو تو غور سے نہ سنو اور ویسے غور سے باتیں نہ سن کے آپ اپنا ہی نقصان کرو گے ۔’’ بیٹا دراصل بات یہ ہے کہ آپ کو ہم سب اسی لیے جنک فوڈ کھانے سے روکا کرتے ہیں کیونکہ یہ جنک فوڈ آپ کو صرف موٹا کرتے ہیں طاقت نہیں دیتے اور اتنا زیادہ موٹا ہونا صحت کے لیے اچھا نہیں ہوتا مگر آپ ہماری بات سنتے ہی نہیں ہو ، نارار آپ ایک دم تو وزن کم نہیں کر سکتے اور ہو گا بھی نہیں مگر اگر آپ چاہیں تو آہستہ آہستہ اپنا وزن کم کر کے ایک صحت مند زندگی گذار سکتے ہیں اس کیلئے آپ کو ہر وقت یہ سوچنا بند کرنا پڑے گا کہ میں تھوڑی تھوڑی دیر بعد کیا کھاؤں اور کیا نہ کھاؤں، کھانا کھانے کے علاوہ بھی زندگی ہے یا یہ کہنا چاہیے کہ کھانا کھاؤ مگر ایک حد تک کھاؤ خیرآپ پڑھائی میں بھی واجبی سے ہیں آپ پڑھائی پہ اپنا دھیان دیں آپ دن رات پڑھائی کرو ، ورزش کرو ، وقت پہ کھانا کھاؤ اگر وقت بے وقت بھوک لگے تو پھل کھاؤ ، بادام کھاؤ ، دودھ پیو طاقت دینے والی چیزیں کھاؤ ، کتابیں پڑھا کرو اور اپنا قیمتی وقت ضائع نہ کیا کرو ، یہ جو وقت گزر رہا ہے یہ پھر واپس نہنارار نے اپنے دادا جان کی باتوں کو بڑے غور سے سنا اور ان پر عمل کرنے کا عہد کیا وہ آہستہ آہستہ اپنا وزن کم کرنے لگا اور بے وقت کھانا کھانے کی عادت کو کنڑول کر کے جب وہ نویں جماعت میں آیا تو اس نے پوری کلاس میں ٹاپ کیا اور میٹرک میں پورے ڈیوژن میں تیسرے نمبر پر آیا ، نارار زندگی میں ہر قدم پہ اپنے دادا جان سے رہنمائی لیتا رہتا اور ان کی باتوں پہ عمل کر کے اس نے اپنا وزن بھی کم کیا اور پڑھائی میں بھی ذہین بن گیا ، آج نارار جنگل میں ایک بہت بڑے بینک کا سربراہ ہے اور کامیابی سے بینک چلا رہا ہے۔

Dosti, Taawun aur Mehnat ki Kahani