Gaon Ki Sair Aur Sabaq Amoz Kahani

Gaon Ki Sair Aur Sabaq Amoz Kahani

گاؤں کی سیر اور سبق آموز کہانی

بابر ایک بہت پیارا گول مٹول بچہ تھا، وہ تیسری جماعت میں پڑھتا تھا چونکہ وہ ایک بڑے شہر میں رہتا تھا، اس لیے اس نے کبھی گاؤں نہیں دیکھا تھا ،بس باتیں سنی تھیں۔ اس کے امی ابو گاؤں کی باتیں بتاتے تھے، جہاں اس کے دادا اور دادی رہتے تھے، اس کے ابو اور امی دونوں ڈاکٹر تھے اور بہت مصروف زندگی کزارتے تھے لیکن دونوں نے بابر کی ضد پر وعدہ کیا تھا کہ وہ جلد ہی پہلی فرصت میں اسے گاؤں کی سیر کو لے کر جائیں گے۔

بابر نے سنا تھا کہ دادا ابو کا گھر بہت بڑا ہے ، ان کا ہرا بھرا باغ بھی ہے اور وہاں کھیت بھی ہیں اور دادا ابو نے بہت سی مرغیاں اور مرغے پالے ہوئے ہیں۔

ابو بتاتے تھے کہ وہ بچپن میں بڑے سے صحن میں مرغیوں کے پیچھے بھاگتے تھے اور کھیتوں سے مولیاں اور گاجریں توڑتے تھے، یہ سب سن کر بابر کا دل اور مچلتا تھا کہ وہ جلد گاؤں جائے۔

آخر کار وہ دن آ ہی گیا، جب ابو نے بتایا کہ ہم کل گاؤں جا رہے ہیں ۔یہ سن کربابر کا خوشی سے برا حال تھا، وہ جانے کی تیاریوں میں لگ گیا۔ ابو نے بتایا تھا کہ دادا اور دادی تم سے ملنے کے لیے بے چین ہیں، وہ بہت اداس ہوگئے ہیں ،ہم سے ملے بغیر۔ بابر نے ان کے لیے بہت سے گفٹ خریدے اور پھر وہ گاؤں کے لیے روانہ ہو گئے۔

جب وہ گاؤں پہنچے تو دادا ،دادی بے حد خوش ہوئےاور بابر کو بہت پیار کیا۔ بابر بھی ان سے مل کر بہت خوش ہوا۔دادا کے گھر میں بہت رونق ہو گئی، گاؤں والے ان سے ملنے کے لئے آ تے تھے ،بابر کی کئی بچوں سے دوستی ہو گئی وہ سارا دن بڑے سے صحن میں بھاگتے پھرتے ، مرغیوں اور بکریوں کو ان کے کھانے کی چیزیں دیتے لیکن سب سے زیادہ جو چیز بابر کو پسند آ ئی، وہ رات کے وقت بڑے سے صحن میں بچھی چارپائیوں پر سونا تھا۔

وہ کبھی بھی صحن میں نہیں سویا تھا۔ رات کو بھی اور دوپہر کو بھی اے ، سی والے کمرے میں سوتا تھا، ان کے گھر میں صحن کا کوئی تصور نہیں تھا، اس لیے دادا کے گھر کی یہ بات اسے بہت اچھی لگی تھی چونکہ گرمیوں کے دن تھے ،اس لیے ملازم شام کو صحن میں پانی کا چھڑکاؤ کرکے چارپائیاں بچھا دیتے تھے، دادا اپنا حقہ لے کر وہاں بیٹھ جاتے تھے ۔ نزدیک کے گھر وں سے ان کے قریبی رشتہ دار بھی فمیلی سمیت آ تے جاتے رہتے تھے۔ کیاریوں سے گلاب ، موتیا اور رات کی رانی کے پودوں کی خوش بو پھیلی ہوتی ،چاند کی چاندنی بھی ہوتی اور اس سے بھی زیادہ اچھی بات جو بابر کو لگتی، وہ یہ تھی کہ جب وہ دادی کے ساتھ چارپائی پر لیٹتا تو اس کی نظر آ سمان پر ہوتی، اسے چاند بہت خوبصورت لگتا۔ وہ دادی سے کہانی سنتا سنتا اور چاند کو تکتا سو جاتا ۔

اصل میں بابرنے کبھی اس طرح صحن میں لیٹ کر تاروں بھرا خوبصورت آ سمان اور چمکتا چاند نہیں دیکھا تھا ،وہ روز دادی سے کہتا۔’’ چندا ماموں کی کہانی سنائیں‘‘ اور پھر کہانی سنتے ہوئے اسے ایسا محسوس ہوتا کہ جیسے چندا ماموں اسے دیکھ رہے ہیںاور اس کے دوست بن گئے ہیں۔

اسی طرح مزے کے دن گزر رہے تھے، دن کو باغ میں تتیلوں کے پیچھے بھاگتے اور کھیلتے اور رات کو چندا ماموں کے ساتھ لیکن اس دن بابر بہت اداس ہوگیا، جس دن امی ابو نے بتایا کہ اب ان کی چھٹیاں ختم ہو گئی ہیں اور اب انہیں واپس جانا ہے۔

شہر واپس آ کر بابر کا بالکل دل نہیں لگا، وہ اداس رہنے لگا ۔دن کو تو اسکول جانا ہوتا تھا اور ہوم ورک وغیرہ کی مصروفیات ہوتی تھیں لیکن رات کو اسے نیند نہیں آ تی تھی، وہ کروٹیں بدلتا رہتا تھا، اسے کمرے کی چھت اور اس پر لگا پنکھا زہر لگتا تھا کیونکہ آ سمان اور اس کے دوست چندا ماموں نظر نہیں آتے تھے۔

اس کی امی نے اس کا دل بہلانے کی بہت کوشش کی لیکن اس کی اداسی دُور نہیں ہوئی۔ اصل میں بابر کا گھر تو کافی بڑا تھا ،بڑا سا ٹی وی لاونج، بڑے بڑے کمرے ،ڈرائینگ روم لیکِن صحن نہیں تھا ،اسی لیے کمرے میں جب وہ سونے کے لیے لیٹتا تو گاؤں کا آ سمان یاد آ جاتا تھا ،اسے لگتا کہ جیسے چندا ماموں بھی اسے یاد کرتے ہوںگے۔

ایک دن بابر کی ٹیچر نے اس کی امی کو اسکول بلایا اور کہا کہ بابر کلاس میں با بار سو جاتا ہے، کلاس ورک بھی صحیح طرح سے نہیں کرتا، اس کے سونے اور جا گنے کا ٹائم ٹیبل بنائیں، ورنہ اس کی تعلیم متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔

اس رات امی نے اسے بہت پیار سے سمجھایا کہ اگر تم ٹھیک طرح سے اپنی پڑھائی نہ کرسکے تو چندا ماموں ناراض ہو جائیں گے، وہ پڑھنے والے بچوں کو پسند کرتے ہیں، تم رات کو جلدی سو جایا کرو تاکہ اسکول میں اچھی طرح سے پڑھ سکو ورنہ اگر فیل ہو گئے تو چندا ماموں ناراض ہو جائیں گے۔ امی اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتی گئیں اور اسے سمجھاتی رہیں ،آ ہستہ آ ہستہ اسے نیند آ تی گئی۔ اس کی آ نکھ لگے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ اسے لگا کہ کوئی اسے آ ہستہ آ ہستہ آ واز دے رہا ہے ۔’’ بابر ، بابر ، یہاں آ ئو۔‘‘

بابر ایک دم بستر سے اٹھا اور آ واز کی طرف بڑھنے لگا۔ بہت پیاری آواز تھی، جیسے گھنٹیاں بج رہی ہوں۔ وہ آ ہستہ آہستہ چلتا ہوا کمرے سے باہر آ گیااور ٹی وی لاونج سے ہوتا ہوا بیرونی گیٹ کے پاس پہنچ گیا۔اس کے پاس پہنچتے ہی گیٹ کھل گیا اور بے حد تیز اور خوبصورت دودھیا روشنی میں جیسے پورا گھر نہا گیا۔’’ میرے دوست! تم کیسے ہو ؟‘‘ بے حد پیاری آ واز آ ئی۔

اوہ ، چندا ماموں آ پ؟‘‘ بابر خوشی سے چیخا۔ اس کے چاروں طرف بہت ٹھنڈی تیز اور خوبصورت دودھیا روشنی تھی ۔’’ مجھے بتاؤ، تم دل لگا کر پڑھو گے ؟ دیکھو میں تم سے ملنے آ یا ہوں ، رات کو جلدی سویا کرو گے ؟‘‘

’’ ٹھیک ہے وعدہ چندا ماموں ۔‘‘بابر بولا ۔

’’ اب ہم چھٹیوں میں ملیں گے۔‘‘چندا ماموں نے رخصت ہوتے ہوئے کہا۔

صبح جب بابر کی آ نکھ کھلی تو وہ تازہ دم تھا، وہ خوشی خوشی اسکول گیا، کلاس ورک بھی بہت اچھا کیا۔ جب وہ اسکول سے واپس آ یا تو امی ابو نے اسےبتایا کہ اب ہم ہر گرمیوں میں گاؤں جایا کریں گے ۔

اس نے امی ابو کو بتایا کہ چندا ماموں رات کو آ ئے تھے اورمجھ سے ملے تھے، میں نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ دل لگا کر پڑھوں گا - اب بابر ہر سال فرسٹ آ تا ہے، اب بھی وہ یہی سمجھتا ہے کہ اس نے خواب نہیں دیکھا بلکہ چندا ماموں سچ مچ اس سے ملنے آئے تھے۔

بچو ! آپ کا کیا خیال ہے؟

:اخلاقی سبق

اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ زندگی میں خوشیاں اور یادیں اپنی جگہ اہم ہوتی ہیں، لیکن تعلیم اور ذمہ داری سب سے زیادہ ضروری ہیں۔ بابر کو گاؤں، دادا دادی اور چندا ماموں بہت پسند تھے، مگر جب اس کی پڑھائی متاثر ہونے لگی تو اسے سمجھایا گیا کہ کامیابی کے لیے وقت کی پابندی اور محنت لازمی ہے۔ جو بچے دل لگا کر پڑھتے ہیں اور اپنے معمولات درست رکھتے ہیں، وہی آگے بڑھتے ہیں۔ ہمیں بھی چاہیے کہ آرام، کھیل اور شوق کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیم اور ذمہ داریوں کو ترجیح دیں۔


Narar Hathi Ki Sabaq Amoz Kahani

 

Post a Comment

0 Comments