خطرناک جنگل کا سبق
جنگل کے قریب واقع ایک گاؤں میں دو بھائی بلال اور ہشام اپنے امی، ابو کے ساتھ رہتے تھے۔ انہیں جنگل کی سیر کا بڑا شوق تھا لیکن ان کے والدین نے وہاں جانے سے منع کر رکھا تھا۔ ایک دن وہ دونوں امی، ابو کو بتائے بغیر جنگل میں جا پہنچے۔ ان کے چاروں طرف ہر ے بھرے درخت تھے، بہت سے جانور اِدھر اُدھر گھوم رہے تھے کہ اچانک انہیں ایک انتہائی خوفناک آواز سنائی دی، جسے سن کر تمام جانور بھی ڈرگئے۔ دونوں نےمڑکر دیکھا تو ایک خوفناک اور موٹا تازہ دیو نظر آیا۔ وہ دونوں اسے دیکھ کر ڈرگئے اور اِدھراُدھر نظر دوڑانے لگے کہ کہاں اور کیسے چھپ کر جان بچائی جائے۔
دیو اس قدر خوفناک تھا کہ اس کے سر پر نوکیلے سینگ تھے ،ہاتھ میں ایک موٹا سا کانٹوں والا گرز اور گلے میںکھوپڑیوں کی مالا تھی۔ دیو نے دونوں بھائیوں سے گر ج دار آواز میں پوچھا۔ ’’تم کون ہو اور یہاں کیا کر رہے ہو؟‘‘
ہشام کی تو ڈر کے مارے آواز ہی نہ نکل سکی لیکن بلال نے ہمت کر کے جواب دیا۔ ’’ہمیں جنگل دیکھنے کا بے حد شوق تھا تو ہم دونوں اس کی سیر کے لئے آئے تھے۔
دیو نے زوردار قہقہہ لگایا اور بولا۔ ’’تمہارا شوق تو میں ابھی پورا کر تا ہوں، مجھے بہت دن ہو گئے ہیں اچھا کھانا کھائے ہوئے، میں تم دونوں کو کھا جاؤں گا، بڑا لطف آئے گا۔‘‘
یہ کہہ کر وہ ان کی طرف بڑھا۔ ان دونوں نے بھاگنے کی کوشش کی۔ اچانک ہشام کا پاؤں ایک جھاڑی میں اٹک گیا، بلال اسے بچانے کے لیے پلٹا تو اتنی دیر میں دیو ان کے سر پر آپہنچا تھا۔
’’بچاؤ … بچاؤ…‘‘ وہ دونوں بری طرح چیخے۔
’’ارے کیا ہوا بیٹا …؟‘‘امی کی آواز آئی تو وہ دونوں امی سے لپٹ گئے اور اپنا خواب بتایا۔ انہوں نے کہا۔ ’’شکر کرو کہ یہ خواب تھا، حقیقت نہیں۔ چلو اب اٹھو اور تیاری کرو، اسکول جانے کے لئے دیر ہورہی ہے۔‘‘
بلال اور ہشام نے اللہ تعالیٰ کاشکر ادا کیا کہ یہ صرف ایک خواب تھا۔
:اخلاقی سبق
اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ والدین کی بات ماننا ہمیشہ ہمارے لیے بہتر ہوتا ہے، کیونکہ وہ ہمارے فائدے اور حفاظت کے لیے ہی ہدایات دیتے ہیں۔ بغیر اجازت خطرناک جگہوں پر جانا نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ مشکل وقت میں ہمت اور ایک دوسرے کا ساتھ دینا بھی بہت اہم ہے۔ اسی طرح ہمیں ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ وہ ہمیں خطرات سے محفوظ رکھتا ہے۔

0 Comments
Post a Comment