Motto Reech Aur Jangal Ki Kahani

Motto Reech Aur Jangal Ki Kahani

موٹو ریچھ اور جنگل کی کہانی

جب سے سست اور کاہل موٹو ریچھ نے کسی سے یہ بات سن لی تھی کہ سب کا رازق اﷲ ہے، اس نے اپنی ہر جاندار مخلوق کو رزق دینے کا وعدہ بھی کیا ہے اور تو اور وہ تو پتھر میں بھی قید کمزور سے کیڑے تک کو رزق دیتا ہے تو موٹو ریچھ کے دل ودماغ میں یہ بات بیٹھ گئی کہ رزق تلاش کرنے کےلئے محنت کرنا بیکار ہے۔ اس دن کے بعد سے موٹو ریچھ نے عہد کرلیا کہ وہ اس جنگل میں صرف گھومے پھرے گا، غذا کی تلاش میں کبھی نہیں نکلے گا کیونکہ ا خود بہ خود اپنے وعدے کے مطابق اس کو بھی دے گا، اسے کھانے پینے کے معاملے میں کبھی کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔ اس کی امی اور ابو خود پورے جنگل میں صبح سے شام تک کھانے پینے کی تلاش میں نکل جاتے۔ وہ وہاں خود بھی کھا کر آتے اور اپنے بیٹے کےلئے بھی بہت سارا کھانے کو لے آتے تھے۔ بس اپنی امی ابو کے اس عمل کو وہ یہ سمجھتا کہ پروردگار نے جو وعدہ کیا ہے، وہ پورا کررہا ہے، اسی لئے بغیر کسی محنت کے اور کہیں جائے بغیر ہی اس تک کھانا پہنچ رہا ہے اور اس کا اپنا بھی یہی ماننا تھا کہ چار د ن کی زندگی ہے تو اس میں خوب گھوما پھرا اور سیرسپاٹا کیا جائے۔

موٹو ریچھ کی عمر زیادہ نہیں تھی۔ بمشکل ابھی وہ چار سال کا ہی ہوگا مگر گھر میں پڑے پڑے اورکھا کھا کرنہ صرف موٹا ہونے کے ساتھ ساتھ سست اور کاہل بھی ہوگیا تھا بلکہ اس کی توند بھی باہرنکل آئی تھی۔ اس کی یہ حالت دیکھ کر جنگل کے سارے چھوٹے بڑے جانور اسے موٹو ریچھ کے نام سے پکارنے لگے۔ وہ اپنے اس لقب سے کبھی کسی سے ناراض نہیں ہوا بلکہ وہ اپنے اس لقب کو اپنے لئے اعزاز سمجھتا اور فخر محسوس کرتا تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ شاید پورے جنگل میں اتنا موٹا اور طاقت ور دوسرے کسی جانور کا بچہ نہیں، اس لئے وہ ان سب میں سب سے زیادہ منفرد ہے، جو سب جانور اس کو ستائشی اندازمیں موٹو ریچھ کہہ کر پکارتے ہیں۔

موٹو ریچھ کی یہ عادت اس کو کہیں سست اور کاہل نہ بنا دے۔ اس کی امی اور ابو نے اسے کافی سمجھایا کہ ہاتھ پیر ہلانے کی عادت ڈالو بیٹا، اگر محنت کی عادت نہیں رہی تو جوانی میں کچھ بھی نہیں کر پائو گے۔ اس پر بھی موٹو ریچھ بڑے اعتماد اور یقین سے اپنے والدین سے کہتا۔’’ آپ میرے لئے پریشان مت ہوں، مجھے اپنے اﷲ پر پورا یقین ہے کہ وہ مجھے کبھی بھوکا نہیں سلائے گا، ہمیشہ پیٹ بھر کر ہی دے گا کیونکہ اس نے وعدہ کیا ہے اپنی مخلوق کو رزق پہنچانے کا۔ کبھی کبھی تو وہ اپنے امی ،ابوسے بھی کہتا کہ آپ لوگ بلاوجہ اتنا پریشان نہ ہوا کریں۔ سارا سارا دن جنگل کی خاک نہ چھانتے رہا کریں۔ میری طرح ا پر بھروسا رکھیں، وہ ہم سب کو گھر بیٹھے ہی دے گا۔ اس کی یہ بات سن کر اس کےوالدین اس کی شکل دیکھتے رہ جاتے۔ اس کے بعد بھی موٹو ریچھ کو کافی سمجھانے کی کوشش کرتے مگر اس کی سوئی اس بات پر مکمل طور پر اٹک چکی تھی کہا رازق ہے، وہی اسے دے گا۔

ایک روز جنگل میں ہاتھی چاچا نے موٹو ریچھ کو راستے میں روک کر پوچھا۔ ’’برخوردار! سارا دن بے مقصد یوں ہی جنگل میں پھرتے رہتے ہو۔ سنا ہے کھانے پینے کا سارا بوجھ تم نے اپنی امی ابو پرڈال رکھا ہے۔ یہ تو بہت بری بات ہے۔‘‘

’’مگرہاتھی چاچا، میں نے بھی تو یہ سن رکھا ہے کہ رزق اﷲ نے اپنے ہاتھ میں لیا ہوا ہے، وہ کبھی کسی کو بھوکا نہیں سلاتا، میں کیوں اس کی فکر میں خود کو ہلکان کروں، وہ مجھے بھی دے گا۔‘‘ موٹو ریچھ نے حسب توقع ہاتھی چاچا کو ترکی بہ ترکی جواب دیا تو ہاتھی چاچا نے مزید اس سے بحث کرنا مناسب نہیں سمجھا اور اپنی منزل کی جانب چل دیئے۔

زندگی کا پرندہ ماہ و سال کے پَر لگا کر اُڑتا رہا۔ موٹو ریچھ بڑا ہو کرجوان ہوگیا مگر اس کے لااُبالی پن میں کوئی کمی نہیں آئی۔ وہ اپنے والدین کی لائی ہوئی غذا پر گزارا کرتا رہا کہ اﷲ ہی اپنے وعدے کے مطابق اسے کھانے کو دے رہا ہے۔ مزید وقت گزرنے کے بعد پہلے موٹو ریچھ کی امی اور پھر کچھ عرصے بعد ابو کا انتقال ہوگیا۔ان کے انتقال کے بعد اس کی زندگی کا اصل امتحان شروع ہوگیا تھا ۔ موٹو ریچھ اب کافی فکرمند رہنے لگا تھا کہ کیسے گزارا ہوگا، مگر وہ اپنی اس فکر کو فوراً اپنے ذہن سے جھٹک دیتا اور اسی سوچ اور یقین پر خود کو تسلی دے دیتا کہ ا نے جیسے پہلے اس کو کھلایا ہے، اب بھی وہی دے گا۔

ایک روز موٹو ریچھ جنگل میں تالاب کی طرف سیروتفریح کے لئے نکل گیا۔ ابھی وہ تالاب تک پہنچا بھی نہیں تھا کہ اس نے وہاں ٹانگوں سے محروم ایک معذور لومڑی دیکھی جو چلنے پھرنے کے بھی قابل نہیں تھی۔ موٹو ریچھ سوچنے لگا کہ لومڑی اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں سکتی، تو یہ بے چاری شکار کرکے اپنا پیٹ کیسے بھرتی ہوگی؟ ابھی وہ اسی ادھیڑبن میں تھا کہ اس نے دیکھا کہ ایک شیر ایک ہرن کو اپنے منہ میں دبائے لومڑی سے تھوڑی فاصلے پر رک کر اس کا گوشت کھانے لگا۔ شیر، ہرن کے گوشت کا کچھ حصہ کھا کر اور باقی وہیں چھوڑ کر چلا گیا تو لومڑی جو دُور سے یہ سب منظر دیکھ رہی تھی، اپنے آپ کو رگڑتے ہوئے باقی بچے ہوئے ہرن کے گوشت کی طرف آئی اور مزے سے گوشت کھانے لگی۔ یہ منظر دیکھ کر موٹو ریچھ کو اپنی بات پر اور زیادہ یقین پختہ ہوگیا کہ ا سب کو رزق دینے والا ہے۔ جو لومڑی اپنی جگہ سے حرکت نہیں کرسکتی تھی، اس کو کتنی آسانی سے بیٹھے بٹھائےپیٹ بھرغذا مل گئی۔ پھر ایک دم اس کے ذہن میں یہ خیال بھی آیا کہ یہ سب ایک اتفاق بھی تو ہوسکتا ہے۔ آج لومڑی کو کھانے کو مل گیا۔ ہوسکتا ہے کل نہ بھی ملے۔ اس نے اپنے یقین کو آزمانے کےلئے کل دوبارہ یہاں آنے کا ارادہ کیا۔ اس نے اگلے دن بھی وہی منظر دیکھا کہ شیر آیا، اس نے گوشت کھایا، باقی چھوڑ گیا اور پھر باقی بچا ہوا گوشت لومڑی نے سیر ہوکر کھایا۔ اب موٹو ریچھ کے دل د دماغ میں یہ بات مکمل طور پر بیٹھ گئی کہ اللہ ہی نے اس شیر کے ذریعے لومڑی کے کھانے کا بندوبست کیا ہے ، اسے بھی اب پریشان ہونے کی قطعی ضرورت نہیں۔وہ روز جنگل میں پیپل کے درخت کے نیچے بیٹھ جاتا کہ اﷲ کہیں نہ کہیں سے اس کےلئے کھانا ضرور بھیجے گا۔ 

اخلاقی سبق

اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ پر بھروسا (توکل) کرنا بہت اچھی بات ہے، لیکن محنت اور کوشش کے بغیر صرف سستی اختیار کرنا درست نہیں۔ اللہ تعالیٰ رزق دینے والا ضرور ہے، مگر وہ رزق اکثر محنت اور جدوجہد کے ذریعے عطا کرتا ہے۔ جو لوگ کام سے جی چراتے ہیں اور دوسروں پر بوجھ بن جاتے ہیں، وہ زندگی کے مشکل وقت میں پریشان ہو جاتے ہیں۔

اس لیے ہمیں چاہیے کہ اللہ پر یقین کے ساتھ محنت، ذمہ داری اور کوشش کو بھی اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔

 Jal Pari Ka Khawab Aur Haqeeqat | جل پری کا خواب اور حقیقت

Post a Comment

0 Comments